Skip to main content

نشہ بحالی مرکز — Nasha Bahali Markaz Islamabad

Draft — pending clinical review. This page describes general information about treatment and has not yet been reviewed by a clinician. It should not be relied on as medical advice. For urgent help, call 0333-5556427.

نشہ بحالی مرکز وہ جگہ ہے جہاں نشے کا علاج صرف دوا سے نہیں بلکہ رہائش، نگرانی اور نفسیاتی علاج کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اسلامک میڈیکل سینٹر اسلام آباد میں یہی سہولت فراہم کرتا ہے۔

This page is for families searching in Urdu or Roman Urdu — nasha bahali markaz, nasha chhurane ka ilaj, نشہ بحالی مرکز. The centre is in Islamabad at Khana Pul, Ghauri Town, with admission available at any hour.

اچھے اور برے مرکز میں فرق کیسے پہچانیں

اسلام آباد اور راولپنڈی میں بہت سے مرکز موجود ہیں اور سب ایک جیسے نہیں۔ کچھ بہترین ہیں، کچھ صرف بند کمرے ہیں۔ فرق ویب سائٹ سے نظر نہیں آتا، اس لیے نیچے دیے گئے سوالات پوچھیں — ہم سے بھی، اور ہر دوسرے مرکز سے بھی۔

  • وارڈ خود دیکھنے کی درخواست کریں، صرف استقبالیہ یا باغ نہیں۔ مریض کہاں سوئے گا؟
  • علاج کون کرے گا؟ تربیت یافتہ ماہرِ نفسیات یا کوئی سابقہ مریض؟
  • ایک کونسلر کے پاس کتنے مریض ہیں؟ بیس مریض فی کونسلر نگرانی ہے، علاج نہیں۔
  • ہفتے میں کتنے گھنٹے اصل کونسلنگ ہوتی ہے؟ دوا کتنی، علاج کتنا؟
  • ڈسچارج کے بعد کیا ہوگا؟ فالو اپ کا کوئی منصوبہ ہے یا نہیں؟
  • خواتین کے لیے الگ عملہ اور الگ عمارت ہے یا نہیں؟
  • کل خرچہ تحریری صورت میں مانگیں، اور پوچھیں کہ کیا کچھ الگ سے چارج ہوگا۔

مرکز میں داخلے کے بعد کیا ہوتا ہے

سب سے پہلے مکمل جانچ پڑتال ہوتی ہے: کیا استعمال ہو رہا ہے، کتنے عرصے سے، آخری بار کب، اور ساتھ کوئی اور چیز تو نہیں۔ جسمانی معائنہ اور ضرورت پڑنے پر ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں۔

اس کے بعد ڈاکٹری نگرانی میں ڈی ٹاکس ہوتا ہے، جس میں واپسی کی علامات کو دوا سے قابو میں رکھا جاتا ہے۔ مقصد صرف حفاظت نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ مریض تکلیف کی وجہ سے علاج ادھورا چھوڑ کر نہ چلا جائے۔

پھر بحالی کا مرحلہ آتا ہے — انفرادی اور گروپ کونسلنگ، اہلِ خانہ کے ساتھ سیشن، اور ڈسچارج سے پہلے دوبارہ نشے سے بچاؤ کا منصوبہ۔

ذہنی بیماری اور نشہ ایک ساتھ

بہت سے مریضوں میں نشے کے نیچے کوئی ذہنی بیماری موجود ہوتی ہے — ڈپریشن، بے چینی، صدمہ، یا بعض اوقات شیزوفرینیا۔ اکثر نشہ اسی تکلیف کو دبانے کے لیے شروع ہوا ہوتا ہے۔

اگر صرف نشہ چھڑا دیا جائے اور اصل بیماری کا علاج نہ ہو، تو مریض کے پاس اس تکلیف سے نمٹنے کا کوئی ذریعہ نہیں بچتا، اور دوبارہ نشے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے یہاں دونوں کا علاج ساتھ کیا جاتا ہے۔

Psychiatric assessment is part of admission, and where depression, anxiety, trauma or psychosis is found it is treated alongside the dependence rather than afterwards.

خواتین کے لیے الگ وارڈ

خواتین کے لیے علیحدہ لیڈیز وارڈ ہے جس میں خواتین عملہ اور الگ سہولیات موجود ہیں۔ بہت سے خاندان صرف پردے اور رازداری کی فکر میں علاج نہیں کرواتے — اسی لیے یہ انتظام موجود ہے۔

اگر مریضہ حاملہ ہو تو نشہ چھڑانے کا عمل عام طریقے سے نہیں کیا جا سکتا؛ اس کے لیے خصوصی طبی نگرانی درکار ہوتی ہے، اور یہ بات جانچ پڑتال کے وقت بتانا ضروری ہے۔

ڈسچارج کے بعد — the dangerous weeks

سب سے زیادہ خطرہ گھر واپسی کے پہلے چند ہفتوں میں ہوتا ہے۔ ایک اہم بات جو اکثر بتائی نہیں جاتی: نشہ چھوڑنے کے بعد جسم کی برداشت کم ہو جاتی ہے، اس لیے پہلے والی مقدار اب جان لیوا ہو سکتی ہے۔

اسی وجہ سے علاج ڈسچارج پر ختم نہیں ہوتا۔ فالو اپ، اہلِ خانہ کی تربیت، اور دوبارہ نشے کی صورت میں فوری رابطے کا راستہ — یہ سب علاج کا حصہ ہیں۔

Tolerance falls during abstinence, so a dose that was routine before treatment can be fatal afterwards. This is why aftercare is part of the programme rather than an optional extra.

رابطہ

پتہ: خانہ پل، غوری ٹاؤن فیز ون، مسجد خلفائے راشدین کے قریب، اسلام آباد۔ راولپنڈی کی حد کے بالکل قریب۔

فون 0333-5556427 پر کسی بھی وقت رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ پہلی بات چیت کی کوئی پابندی یا ذمہ داری نہیں، اور اہلِ خانہ مریض کے بغیر بھی مشورہ لے سکتے ہیں۔

Frequently Asked Questions

نشہ بحالی مرکز اور عام ہسپتال میں کیا فرق ہے؟
عام ہسپتال جسمانی علاج کرتا ہے اور مریض کو چند دن بعد بھیج دیتا ہے۔ بحالی مرکز میں ڈی ٹاکس کے بعد ہفتوں پر مشتمل نفسیاتی علاج، کونسلنگ اور اہلِ خانہ کے ساتھ کام ہوتا ہے، جو اصل تبدیلی لاتا ہے۔
نشہ چھڑانے کا علاج کہاں سے شروع ہوتا ہے؟
جانچ پڑتال سے۔ یہ طے کیا جاتا ہے کہ کیا استعمال ہو رہا ہے، جسمانی انحصار کتنا ہے، اور کیا نیچے کوئی ذہنی بیماری موجود ہے۔ اسی کی بنیاد پر علاج کا منصوبہ بنتا ہے۔
کیا مرکز میں خواتین کے لیے الگ انتظام ہے؟
جی ہاں، خواتین عملے کے ساتھ الگ لیڈیز وارڈ اور علیحدہ سہولیات موجود ہیں۔
اگر مریض بھاگ جائے یا علاج چھوڑ دے تو؟
علاج چھوڑنے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ برداشت کم ہو چکی ہوتی ہے اور پہلے والی مقدار جان لیوا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے دوبارہ رابطے کا راستہ پہلے سے طے کیا جاتا ہے، اور تاخیر کے بجائے فوراً رابطہ کرنا چاہیے۔
علاج کا خرچہ کتنا ہے؟
خرچہ قیامِ مدت، طبی نگرانی کی سطح اور کمرے کی نوعیت پر منحصر ہے۔ موجودہ فیس کے لیے فون کریں، اور ہر مرکز سے کل خرچہ تحریری صورت میں مانگیں۔ محدود تعداد میں مفت اور زکوٰۃ کی نشستیں بھی دستیاب ہیں۔
کیا راولپنڈی سے آنا آسان ہے؟
جی ہاں۔ مرکز خانہ پل، غوری ٹاؤن میں ہے جو راولپنڈی کی حد کے قریب ہے، اور بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے اور ایکسپریس وے کے علاقوں سے آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔
کیا اہلِ خانہ مریض سے مل سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ اہلِ خانہ کی ملاقات علاج کا حصہ سمجھی جاتی ہے، رکاوٹ نہیں۔ ابتدائی دنوں میں فون کے استعمال پر کچھ پابندی طبی وجوہات کی بنا پر ہو سکتی ہے، جس کی وضاحت پہلے کر دی جاتی ہے۔
داخلے کے لیے کیا ساتھ لانا ہوگا؟
شناختی کارڈ، موجودہ تمام ادویات اصل ڈبی سمیت، پرانی میڈیکل رپورٹس اگر ہوں، ضروری ذاتی سامان، اور ایک اہلِ خانہ کا رابطہ نمبر۔
Find UsFacebookInstagramYouTubeTikTokWhatsApp