Skip to main content

منشیات کا علاج — Manshiyat Ka Ilaj in Islamabad

Draft — pending clinical review. This page describes general information about treatment and has not yet been reviewed by a clinician. It should not be relied on as medical advice. For urgent help, call 0333-5556427.

منشیات کی لت ایک بیماری ہے، اخلاقی کمزوری نہیں۔ یہ قابلِ علاج ہے، لیکن علاج ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے — گھر پر اکیلے نشہ چھوڑنے کی کوشش اکثر ناکام ہوتی ہے، اور بعض صورتوں میں خطرناک بھی ہے۔

Many families search for منشیات کا علاج, manshiyat ka ilaj, or نشہ چھڑانے کا علاج rather than the English word rehab. It is the same thing. Islamic Medical Centre provides medically supervised detoxification and residential rehabilitation in Islamabad, with admission available 24 hours a day.

علاج کیسے ہوتا ہے — how treatment works

علاج چار مرحلوں میں ہوتا ہے: جانچ پڑتال، ڈاکٹری نگرانی میں ڈی ٹاکس، داخلے کے ساتھ بحالی، اور گھر جانے کے بعد فالو اپ۔ ہر مرحلے کا اپنا مقصد ہے، اور کسی مرحلے کو چھوڑ دینا دوبارہ نشے کی سب سے عام وجہ ہے۔

صرف ڈی ٹاکس کافی نہیں۔ ڈی ٹاکس جسم سے نشہ نکالتا ہے، لیکن اس وجہ کو ختم نہیں کرتا جس کی بنا پر نشہ شروع ہوا تھا۔ اسی لیے ڈی ٹاکس کو علاج کا پہلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے، مکمل علاج نہیں۔

Treatment runs through assessment, medically supervised detoxification, residential rehabilitation and follow-up after discharge. Detox alone is not treatment: it clears the substance from the body but leaves the reasons for using it untouched.

کن نشوں کا علاج ہوتا ہے — substances treated

مندرجہ ذیل تمام نشوں کا علاج یہاں کیا جاتا ہے۔ ہر نشے کا واپسی کا اثر (withdrawal) الگ ہوتا ہے، اس لیے علاج بھی الگ ہوتا ہے۔

  • ہیروئن اور دیگر افیون سے بننے والے نشے — heroin and opioids
  • آئس یا کرسٹل میتھ — ice, crystal meth
  • چرس اور بھنگ — charas, hashish, cannabis
  • شراب — alcohol
  • نیند اور بے چینی کی گولیاں — sleeping tablets and benzodiazepines
  • درد کی گولیاں اور کھانسی کا شربت — painkillers and codeine syrups
  • سمد بانڈ، پیٹرول اور دیگر سُنگھنے والی چیزیں — solvents and inhalants

گھر پر نشہ چھڑانا کیوں ناکام ہوتا ہے

زیادہ تر خاندان پہلے گھر پر کوشش کرتے ہیں۔ مریض کو کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے، اور دو دن بعد تکلیف اتنی بڑھ جاتی ہے کہ کوشش ختم ہو جاتی ہے۔ یہ مریض کی کمزوری نہیں — یہ جسم کا ردِعمل ہے، اور اسے دوا سے سنبھالا جا سکتا ہے۔

کچھ صورتوں میں گھر پر چھڑانا واقعی خطرناک ہے۔ شراب، نیند کی گولیوں اور پریگابالن کو اچانک بند کرنے سے دورے (seizures) پڑ سکتے ہیں۔ ان کا علاج ہمیشہ ڈاکٹر کی نگرانی میں، آہستہ آہستہ کم کر کے ہونا چاہیے۔

Withdrawal from alcohol, sleeping tablets and pregabalin can cause seizures if stopped abruptly, and must be tapered under medical supervision rather than stopped at home.

اگر مریض علاج کے لیے تیار نہ ہو

یہ سب سے عام سوال ہے۔ بالغ مریض کی رضامندی ضروری ہے — کوئی بھی معتبر ادارہ کسی کو زبردستی اٹھا کر داخل نہیں کرتا، اور جو ادارہ ایسا کرنے کی پیشکش کرے، اس سے گریز کریں۔

لیکن انکار کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ گھر پر معائنے (home visit) کا انتظام ہو سکتا ہے تاکہ پہلی بات چیت وہیں ہو جائے جہاں مریض موجود ہے۔ اہلِ خانہ اکیلے بھی مشورے کے لیے آ سکتے ہیں۔

An adult must consent to admission. Where someone is refusing, a home visit can bring the assessment to them, and families can be seen on their own first for advice on how to approach it.

خرچہ اور زکوٰۃ — cost and zakat places

خرچہ پوچھنا معیوب نہیں۔ سب سے پہلے یہی پوچھنا چاہیے، کیونکہ ادھورا علاج نہ ہونے سے بھی برا ہے۔

محدود تعداد میں مفت اور زکوٰۃ سے چلنے والی نشستیں دستیاب ہیں۔ دستیابی سال بھر بدلتی رہتی ہے اور ہر کیس کا الگ جائزہ لیا جاتا ہے، اس لیے فون کر کے براہِ راست پوچھیں۔ اگر آپ علاج کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تو صاف بتا دیں — اس سے علاج کے معیار میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

زبان — assessment in your own language

جانچ پڑتال اور کونسلنگ اردو اور انگریزی دونوں میں ہوتی ہے، اور ہمارے کونسلر پشتو، پنجابی اور سندھی بھی بولتے ہیں۔ اتنی مشکل بات کسی کو دوسری زبان میں کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔

Assessment and counselling are conducted in Urdu and English, with Pashto, Punjabi and Sindhi also spoken.

پتہ اور رابطہ — location and contact

ادارہ خانہ پل، غوری ٹاؤن فیز ون، مسجد خلفائے راشدین کے قریب، اسلام آباد میں واقع ہے۔ یہ راولپنڈی کی حد کے قریب ہے اور بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے اور ایکسپریس وے کے علاقوں سے آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔

داخلہ چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ اگر نشہ چھوڑنے کی علامات شروع ہو چکی ہوں تو اسے ہنگامی صورتحال سمجھا جاتا ہے۔ فون: 0333-5556427

Frequently Asked Questions

منشیات کا علاج کتنے دن میں ہوتا ہے؟
ڈی ٹاکس تقریباً پہلے ہفتے میں مکمل ہوتا ہے۔ اس کے بعد داخلے کے ساتھ بحالی کا دورانیہ دنوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں ہوتا ہے، کیونکہ اصل تبدیلی نفسیاتی علاج سے آتی ہے۔ دورانیہ جانچ پڑتال کے بعد طے کیا جاتا ہے۔
کیا گھر پر نشہ چھڑایا جا سکتا ہے؟
جہاں جسمانی انحصار قائم ہو چکا ہو، وہاں گھر پر چھڑانے کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔ عام طور پر یہ کوشش دوسرے یا تیسرے دن ناکام ہو جاتی ہے۔ شراب، نیند کی گولیوں اور پریگابالن کی صورت میں اچانک بند کرنا خطرناک ہے کیونکہ دورے پڑ سکتے ہیں۔
کیا مریض کو زبردستی داخل کروایا جا سکتا ہے؟
نہیں۔ بالغ مریض کی رضامندی ضروری ہے، اور کوئی معتبر ادارہ زبردستی داخل نہیں کرتا۔ اگر مریض انکار کر رہا ہو تو گھر پر معائنے کا انتظام ہو سکتا ہے، اور اہلِ خانہ الگ سے مشورے کے لیے آ سکتے ہیں۔
کیا علاج خفیہ رکھا جاتا ہے؟
جی ہاں۔ مریض کی معلومات حساس سمجھی جاتی ہیں اور صرف انہی عملے کے افراد تک محدود رہتی ہیں جنہیں علاج کے لیے جاننا ضروری ہو۔ آجر یا تعلیمی ادارے کو کچھ نہیں بتایا جاتا۔
کیا خواتین کے لیے الگ انتظام ہے؟
جی ہاں۔ خواتین کے لیے الگ وارڈ ہے جس میں خواتین عملہ اور علیحدہ سہولیات موجود ہیں، تاکہ خواتین مناسب ماحول میں علاج کروا سکیں۔
کیا مفت علاج ممکن ہے؟
محدود تعداد میں مفت اور زکوٰۃ سے چلنے والی نشستیں دستیاب ہیں۔ دستیابی بدلتی رہتی ہے اور ہر کیس کا الگ جائزہ لیا جاتا ہے، اس لیے فون پر براہِ راست پوچھنا ہی واحد طریقہ ہے۔
Do you provide treatment in Urdu?
Yes. Assessment and counselling are conducted in Urdu and English, and counsellors also speak Pashto, Punjabi and Sindhi.
داخلہ کتنی جلدی ہو سکتا ہے؟
داخلہ چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ اگر نشہ چھوڑنے کی علامات شروع ہو چکی ہوں، یا مریض کی حالت خطرناک ہو، تو اسے ہنگامی کیس سمجھا جاتا ہے۔
Find UsFacebookInstagramYouTubeTikTokWhatsApp